پنجاب کے دیہاتوں میں وراثتی جائیداد کی تقسیم ایک ایسا موضوع ہے جو اکثر بھائیوں کو دشمن اور رشتے داروں کو اجنبی بنا دیتا ہے۔ جہاں زمین باپ دادا کی پہچان ہوتی ہے، وہیں اس کی تقسیم خون کے رشتوں میں دراڑ ڈال دیتی ہے۔ گھر کے بڑے بزرگ جب تک زندہ ہوتے ہیں، سب ٹھیک چلتا ہے، مگر جیسے ہی وہ دنیا سے جاتے ہیں، زمین اور جائیداد کے حصے پر تلخ کلامیاں شروع ہو جاتی ہیں۔
وراثت یا ضد؟
پنجاب میں وراثت صرف جائیداد کا مسئلہ
نہیں بلکہ انا اور ضد کا معاملہ بھی بن جاتا ہے۔ چھوٹے بڑے بھائیوں کے درمیان یہ
بحث عام ہوتی ہے:
"ابا نے میرے لیے زیادہ زمین
رکھی تھی!"
"نہیں! مجھے ہی گھر کے بڑے ہونے
کا حق ہے!"
"تم نے تو پہلے ہی بہت کچھ لے لیا!"
یہ جھگڑے اکثر گاؤں کی چوپال، تھانے
کچہری، یا پھر بعض اوقات گھریلو لڑائیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ نتیجہ؟ ایک ہی ماں کے بیٹے
زندگی بھر ایک دوسرے کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔
عورتوں کا کردار: تیل میں یا پانی میں؟
پنجاب کے دیہاتی گھروں میں عورتوں کا
کردار بھی کم نہیں ہوتا۔ ماں چاہے تو بھائیوں کو جوڑ کر رکھے اور بہوئیں چاہیں تو
جلتی پر تیل ڈال کر رشتے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں۔ کچھ مکالمے جو اکثر سننے کو
ملتے ہیں:
"تمہارے بھائی نے تمہیں دھوکا
دے دیا!"
"اگر ابھی نہ بولے تو ساری زمین
ہڑپ جائے گی!"
"میرے بچے کہیں کے نہیں رہیں گے!"
یہ جملے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں
اور یوں ایک پرسکون گھر میدان جنگ بن جاتا ہے۔
بڑھتے ہوئے مقدمے اور دشمنیاں
وراثتی تنازعات کی وجہ سے پنجاب کے کئی
گھروں میں مقدمے چل رہے ہیں۔ بعض بھائی سالوں تک ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور
جائیداد کی لڑائی ان کے بچوں تک منتقل ہو جاتی ہے۔ جہاں ایک طرف زمین پر قبضے ہوتے
ہیں، وہیں دوسری طرف دشمنیاں نسلوں تک چلتی رہتی ہیں۔
حل کیا ہے؟
- وراثت کو زندگی میں ہی تقسیم کر دینا بہتر ہوتا ہے تاکہ بعد میں جھگڑے نہ ہوں۔
- رشتوں کو جائیداد پر ترجیح دینا چاہیے کیونکہ زمین تو آج ہے، کل کسی اور کی ہو جائے گی۔
- خاندان کے بزرگوں کو چاہیے کہ معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کریں اور ناانصافی نہ ہونے دیں۔
اختتام:
پنجاب کے گھروں میں وراثتی تنازعات
اکثر ایک خوشحال خاندان کو تقسیم کر دیتے ہیں۔ اگر ہم زمین کی بجائے رشتوں کو اہمیت
دیں، تو کئی زندگیاں تباہ ہونے سے بچ سکتی ہیں۔ آخر میں، زمین تو یہی رہ جائے گی،
مگر خون کے رشتے اگر ایک بار ٹوٹ جائیں تو دوبارہ جڑنا مشکل ہوتا ہے۔